مسجد کی زمین میں تعمیر کر لی تو وہ کس کی ہے
سوال
ایک مسجد کی کچھ مملوکہ و مقبوضہ زمین جو سالہا سال سے بیکار پڑی تھی، اس کا کچھ حصہ لوگوں کے پاس کرایہ پر تھا، کرایہ کی مقدار بہت تھوڑی تھی، کچھ لوگوں نے اس پر عمارتیں بنالیں، اور کرایہ دینا بھی بند کر دیا۔ اس طرح زمین پر قبضہ کر کے مالک بنجانا چاہتے تھے مسجد کی کمیٹی نے یہ دیکھ کر زمین فروخت کر دینے کا اعلان کر دیا، اور کہا یا تو زمین کی قیمت ادا کر دو یا اپنے مکان کی قیمت لے لو، بعض کرایہ داروں نے یہ بات مان لی اور زمین کی قیمت دس ہزار روپئے گراؤنڈ کے حساب سے دینے پر راضی ہو گئے، زمین کو فروخت کر دینے میں مسجد کا…
جواب
جو زمین مسجد کے لئے وقف ہو چکی ہے، اس کو فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں ہے الا یہ کہ اس پر غاصبانہ قبضہ ہو کر اس کا وقف ہونا ہی ختم ہو جاتا ہو، تو ایسی صورت میں مجبوراً اس کی قیمت وصول کر کے مسجد کے لئے دوسری جائیداد خریدی جائے، اب موجودہ صورت میں تین شکلیں ہیں، اول یہ کہ وہ لوگ وہاں سے اپنی عمارت ہٹا کر مسجد کی زمین بحال کر دیں، دوسری صورت یہ ہے کہ تعمیر شدہ مکان کے ملبہ کی قیمت…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔