مسجد کے دالانوں کو دفتر انجمن بنانا / مسجد کی زمین میں اسکول قائم کرنا
سوال
(۱) مدرسہ و مسجد کی موقوفہ زمین و عمارت میں ایک اُردو سرکاری اسکول قائم ہے، جس کی وجہ سے مدرسہ و مسجد کی آمدنی میں خسارہ ہوتا ہے، لہذا دریافت طلب یہ ہے کہ جو عمارت تعلیم دین کیلئے بنائی گئی تھی، اس میں چند لوگوں نے اُردو سرکاری اسکول قائم کرا دیا، یہ لوگ نہ عمارت چھوڑتے ہیں نہ سرکاری اسکول ہی چھوڑتے ہیں، اس کے متعلق حکم شرع کیا ہے؟ (۲) بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ سرکاری اسکول قومی چیز ہے اور مسجد کی زمین بھی قومی چندے سے خریدی گئی تھی، اس لئے اسکول استعمال کر سکتے ہیں کیا یہ درست ہے؟
جواب
ایسی صورت میں ایسے لوگوں سے اس عمارت کو خالی کرانا اور گذشتہ کرایہ وصول کرنا اور وہ صورت اختیار کرنا جس سے مسجد و مدرسہ کو خسارہ نہ ہو لازم ہے اور جس نیک مقصد کیلئے وہ زمین خریدی گئی ہے، اسکی تکمیل ضروری ہے، اس زمین پر اسکول قائم کرنا درست نہیں ہے۔ (۲)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔