انقاض مسجد کی بیع
سوال
کسی مسجد کی لکڑیاں اور اسپلٹو وغیرہ اس کے کام میں لگنے کے نہیں یعنی ضرورت سے زائد ہیں تو کوئی ان چیزوں کو خرید کر اپنے کام میں لگا سکتا ہے یا نہیں؟
جواب
اہل محلہ کے مشورہ سے ان زائد از ضرورت اشیاء کی بیع درست ہے، اور خریدنے والے کو اپنے کام میں لگانا بھی درست ہے، قیمت مصالح مسجد میں صرف کر دی جائے، ”سئل شیخ الاسلام عن اهل قرية رحلوا وتداعى مسجدها الى الخراب وبعض المتغلبة يستولون على خشبه وينقلونه الى دورهم هل لواحد من اهل المحلة ان يبيع الخشب بامر القاضى ويمسك الثمن ليصرفه الى بعض المساجد اوالهذا المسجد قال نعم اھ شامى لاحرمة…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔