انہدام مسجد پر اس کی اشیاء کی بیع
سوال
بنائے مسجد کے بعد اگر کوئی چیز زیادہ ہو یا پرانی مسجد کو توڑ کر بنایا گیا ہو اور اس میں ٹوٹی پھوٹی لکڑی بال یا بٹن وغیرہ الغرض جو بچے تو ان اشیاؤں کو فروخت کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟ اور فروخت کرنے کے بعد کیا کیا جاوے؟
جواب
”وما انهدم من بناء الوقف والته صرفه الحاكم في عمارة الوقف ان احتاج اليه وان استغنى عنه امسكه حتى يحتاج الى عمارته فيصرفه فيها الى ان قال وان تعذر اعادة عينه الى موضعه بيع وصرف ثمنه الى المرمة صرفاً للبدل الى مصرف المبدل هدایه ص ۶۲۲ ر ج ۲ / اس سے معلوم ہوا کہ ایسی اشیاء کو خود یا اگر خود کارآمد نہ ہوں تو ان کی قیمت کو مسجد ہی کے کام میں مرمت وغیرہ میں صرف کرنا چاہئے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔