پرانی مسجد کے سامان کو فروخت کرنا اور حجرہ امام میں صرف کرنا
سوال
ایک کچی مسجد کو گرا کر پکا بنانا چاہتے ہیں جو سامان اس کچی مسجد سے اترا ہے وہ پکی میں تو نہیں لگا سکتے اس لئے جدید سامان اور عمدہ خرید کیا گیا ہے، اور ایسا بیکار بھی نہیں کہ اس کو ضائع کر دیا جائے، بلکہ سب سامان مفید اور کار آمد ہے تو کیا اس سامان سے مسجد میں حجرہ بنوانا جائز ہے یا نہیں، اور اگر جائز ہے تو اس کی قیمت بنا کر وہ قیمت مسجد پر لگانی ضروری ہے، یا یہ کہ بغیر اس سامان کی قیمت کرنے اور مسجد پر لگانے کے حجرہ ضروریات مسجد کیلئے بنایا جاسکتا ہے، اور کیا طالب علم، اور امام اور مؤذن مسجد کی سکونت حجرہ میں…
جواب
بہتر یہ ہے کہ بعینہ وہی سامان مسجد میں لگایا جائے اگر بعینہ اس کو مسجد میں لگانا دشوار ہو تو اس کو اہل محلہ اور حاکم کی رائے سے فروخت کر کے اس کی قیمت سے اس کے مثل سامان خرید کر اس کو مسجد میں لگا دیا جائے، خریدار کی کوئی قید نہیں کہ وہ مسجد کے لئے خریدے بلکہ اس کو ہر شخص خرید سکتا ہے، پھر وہ چاہے مسجد میں لگائے یا اپنے مکان وغیرہ میں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔