الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد کی زمین میں امام کا حجرہ بنانا

سوال

مسجد کے امام صاحب نے رہنے کے لئے محن مسجد میں ایک حجرہ بنایا جس کو پہلے نماز کے لئے تیار کیا گیا تھا، یہ جائز ہے یا نہیں؟ سوال: ایک مسجد کی موقوفہ زمین پر خلاف شرط واقف اہل محلہ کے اتفاق رائے سے دوسری مسجد بنا سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر اہل محلہ نے یہ طے کیا کہ اس دوسری مسجد کے مصلیان پہلی مسجد والے کو اس موقوفہ زمین کے عوض میں کچھ روپیہ دیں تو یہ روپیہ دینا دوسری مسجد والوں پر ضروری ہوگا، یا نہیں؟ اور پہلی مسجد والے دوسری مسجد والے کو یہ زمین بلاعوض دے سکیں گے، یا نہیں؟

جواب

جو جگہ نماز پڑھنے کے لئے وقف کر کے مسجد بنادی گئی ہو وہاں امام یا کسی اور کے لئے حجرہ بنانا درست نہیں۔ جو زمین مسجد کیلئے وقف کر دی گئی وہاں دوسری مسجد بنانے کا حق نہیں، نہ اس کو دوسری مسجد کیلئے فروخت کیا جا سکتا ہے، نہ اسکا روپیہ لیا جاسکتا ہے، ہاں اگر خدا نخواستہ پہلی مسجد ویران ہو جائے وہاں مسلمان باقی نہ رہیں، اور جہاں وہ زمین ہے وہاں مسلمان موجود ہیں، اور مسجد کی ضرورت…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو