مسجد کی موقوفہ زمین پر دوسری مسجد بنانا / نیچے مسجد اوپر رہائش گاہ
سوال
یہاں ممبئی میں ایک دو جگہ پر کچھ اہل خیر حضرات نے اپنی جگہ پر مسجد قائم کر لی اس میں ایک جگہ پر تو جمعہ کی نماز بھی ہوتی ہے، مگر اشکال طلب امر یہ ہے کہ وہ دونوں مسجد کے اوپر رہائش گاہ بھی ہے، سب لوگ رہتے بھی ہیں، تو کیا وہ مسجد کے حکم میں مانی جائے گی؟ اور وہاں جماعت ثانی ہو سکتی ہے، یا نہیں؟ اور اس پر مسجد کا حکم لگایا جائے گا یا نہیں اور جس مسجد میں جمعہ نہیں ہوتا ہے صرف پنجوقتہ نماز ہوتی ہے، اور اس کے اوپر بھی رہائش ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب
جب تک وقف کر کے اس سے ملکیت کے حق کو ختم کر کے اسکا راستہ ہی الگ نہ کر دیا جائے، اور اسمیں سب کو آنے اور نماز پڑھنے کا پورا اختیار نہ دیدیا جائے وہ شرعی مسجد نہیں ہوگی کہ اوپر کے حصہ میں خود مالکانہ حیثیت سے رہیں، اور نیچے کے حصہ میں اذان و جماعت ہونے لگے، اتنی بات اسکے مسجد ہونے کیلئے کافی نہیں ہے وہاں جماعت ثانیہ کی اجازت ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔