الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد کے پلاٹ پر نا جائز قبضہ

سوال

جامع مسجد دھمتری کی وقف شدہ جائیداد کا زید کرایہ دار ہے، اس نے کمیٹی کے کرایہ پر دیئے ہوئے پلاٹ پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، اور یہ ناجائز زائد قبضہ عرصہ دس سال سے کئے ہوئے ہے، اب کمیٹی نا جائز بلا کرایہ قبضہ کو زید سے واپس اس لئے لینا چاہتی ہے کہ اس ناجائز قبضہ کے پلاٹ سے جامع مسجد کی کم وبیش سو روپے ماہانہ آمدنی بلا مبالغہ بڑھ سکتی ہے، اب اگر زید اس نا جائز قبضہ کے پلاٹ کو کمیٹی کے قواعد وضوابط کے تحت واپس نہیں کرتا اور نہ ہی اس کا کرایہ بالمقال دیگرے دینے کو تیار ہے، اور نہ ہی ناجائز قبضہ چھوڑتا ہے، تو زید پر اس…

جواب

اگر واقعہ اسی طرح ہے تو وہ کرایہ دار غاصب ہے، ظالم ہے کبیرہ گناہ کا مرتکب ہے، اس کے ذمہ واجب ہے کہ وہ زائد حصہ فوراً خالی کر دے اور جتنے زمانہ تک اس پر نا جائز قبضہ کر رکھا ہے اس کا کرایہ بھی ادا کر دے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو