حجرہ امام کا گاٹر جدار مسجد پر
سوال
ما قولكم رحمکم اللہ تعالیٰ شاہی مسجد سیوہارہ کی جنوب و شمال میں ہر دو جانب زمانہ قدیم کے بنے ہوئے دو حجرے ہیں جن میں سے ایک حجرے کی قلمدانی ڈانٹ مسجد کی دیوار میں ہضم ہو رہی ہے، دوسرا شمالی حجرہ سادہ بنا ہوا ہے، جس کو شکستہ ہو جانے کی وجہ سے دوبارہ تعمیر کیا گیا ہے، اس تمہید کے بعد سوال یہ ہے کہ اس شمالی حجرہ کے اوپر دوسری منزل کی تعمیر کا خیال ہے اور مصلحت تعمیر کی بنا پر اس دوسری منزل کی چھت کا شہتیر ایک طرف مسجد کی دیوار میں رکھا جانا ضروری معلوم ہوتا ہے، کیا یہ تصرف جائز ہے یا نہیں، اس سوال کے خاص ملحوظات یہ…
جواب
یہ تصرف شرعاً جائز نہیں ” ولا يوضع الجذع على جدار المسجد وان كان من اوقافه اھ شامی“ ظاہر حالات سے تو یہ ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ حجرے مصالح مسجد کے لئے وقف ہیں مدرسہ کا کام لینا ان حجروں سے شرعاً درست ہے مگر مسجد کا احترام ملحوظ رہنا بھی ضروری ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔