الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نیچے دوکان اور اوپر مسجد

سوال

زید اپنی دوکان کے بالائی حصہ پر مسجد بنوانا چاہتا ہے اور وقف بھی صرف اتنے حصہ کو کیا تھا، جس کے متعلق یہ معلوم ہو گیا کہ جب تک اوپر نیچے ہر دو حصے مسجد کے نامزد نہ ہو جائیں گے وہ مسجد شرعی نہ ہوگی، اگر چہ نماز، جماعت صحیح ہو جایا کرے گی مگر وہ مسجد دوامی نہ ہوگی، زید کو یہ داعیہ اس لئے ہوا کہ جس جگہ زید نے مسجد بنوانے کا ارادہ کیا ہے دیگر مساجد وہاں سے فاصلہ پر ہیں، جس کی وجہ سے وہاں سے قریب جو مسلمان ہیں وہ نماز میں کوتاہی کرتے ہیں، نیز یہ جگہ بازار میں ہے، قریب سے روڈ گیا ہے، جس کی وجہ سے امید ہے کہ بس اڈہ…

جواب

جس حصہ زمین کو شرعی مسجد بنایا جائے یعنی نماز کیلئے متعین و مخصوص کیا جائے، وہ بالائی و تحتانی (ثری سے ثریا تک) سب ہی جگہ مسجد ہو جاتی ہے، اس طرح کہ اس سے حق العبد منقطع ہوجاتا ہے، نیچے دوکان کرایہ پر چلے اوپر مسجد ہو یہ ٹھیک نہیں ہے جبکہ نیچے کا حصہ بھی مسجد ہوگا تو وہاں خرید وفروخت اور تمام لوازم بیع کا صدور ہوگا گفتگو میں بھی احترام مسجد باقی نہ رہے گا پاک و نا پاک ہر قسم…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو