مسجد کا لینٹر پڑوسی کی دیوار پر
سوال
مسجد کا ایک حجرہ میرے مکان کے ایک کمرہ سے ملا کر مسجد تعمیر کرانیوالوں نے تعمیر کرایا، میرے مکان کی خام دیوار کو چھانٹ کر اپنے حجرے کی دیوار قائم کر لی، میری دیوار میں سے ایک فٹ دبا کر لینٹر ڈال لیا، میں نے حافظ صاحب سے نہایت تہذیب سے دیوار بنانے کے شکایت کی مگر توجہ اور معقول جواب نہیں دیا، کیا بغیر مالک کی اجازت کے ایسا کرنا جائز تھا، نیز ایک چھت اور بنوائی ہے جو مذکورہ چھت سے ملائی گئی، اور روشن دان رکھ دیا جس کی وجہ سے بے پردگی ہوگی، یہ بھی میری غیر موجودگی میں کیا گیا حالانکہ باہر جاتے وقت وہاں سے کہہ کر گیا…
جواب
مسجد خدا کا گھر ہے اس میں کسی دوسرے کی زمین بغیر مالک کی اجازت کے شامل کر لینا یا اس کی دیوار پر مسجد کا گاٹر یا لینٹر وغیرہ رکھنا یا مسجد میں کوئی ایسا روشندان کھولنا کہ جس سے دوسرے مکان کی بے پردگی ہو شرعاً یہ جائز نہیں ہے یہ حق تلفی ہے گناہ ہے، اگر مسجد میں کسی کی زمین کی ضرورت ہو تو قیمتاً خریدی جائے لہذا ایسی صورت مسئولہ میں مسجد کے ان تصرفات کیلئے دیوار کا کوئی حصہ لے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔