مسجد پر غیر شرعی قبضہ
سوال
(۱) ایک مسجد و دیشہ میں بیجا منڈل کے نام سے مشہور ہے جس میں زمانہ دراز سے عیدین کی نماز پڑھی جاتی ہے، شاہی زمانہ میں مہاراجہ کی طرف سے بذریعہ حکام عطر، پان، مسلمانوں کو عید کی خوشی میں پیش کیا جاتا تھا۔ (۲) جب ۱۹۴۷ء میں ہندوستان کا بٹوارہ ہوا تو دشمن ملک اور دشمن اسلام ہندو مہا سبہا وغیرہ پارٹیوں نے ستیہ گروہ شروع کر دی کہ مسجد بیجا منڈل مسجد نہیں ہے، بلکہ بچ مندر ہے ۱۹۴۷ء سے لیکر ۱۹۶۴ء تک عیدین کی نماز مسجد بیجا منڈل میں ہوتی رہی کبھی دفعہ ۱۴۴ کے ذریعہ کبھی کرفیو کے ذریعہ ۱۰/۸ر برس سے پرمٹ سسٹم جاری کر دیا تھا کہ…
جواب
جبکہ وہ شرعی مسجد ہے اور حکومت کو بھی اس کا مسجد ہونا تسلیم ہے، اور اس میں نماز باجماعت ہوتی چلی آئی ہے، حتی کہ مخالفوں کی مخالفت کے باوجود کرفیو دفعہ ۱۴۴ / پرمٹ سسٹم کی صورتوں میں اس کو مسجد ہی تسلیم کرتے ہوئے اس میں عیدین ادا کی گئی ہے تو اب نہ اس کو فروخت کیا جا سکتا ہے، نہ اس پر کسی کا مالکانہ قبضہ ہوسکتا ہے نہ دعوی ملک قابل سماعت ہے، نہ اس میں نماز پڑھنے سے روکا جاسکتا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔