الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد کا کچھ حصہ چھوڑ دینا

سوال

ہمارے یہاں ایک مسجد ہے بالکل پی ڈبلیو روڈ کے متصل، پرانی مسجد کو منہدم کر کے نئی تعمیر کرتے وقت ۱۲ ہاتھ چھوڑ کر شمال کی طرف ڈھائی ہاتھ بڑھائی ہے، جدید معتمرین حضرات یہ کہتے ہیں کہ جبکہ ہم نئی مسجد تعمیر کرا رہے ہیں، تو کچھ بجانب شمال ہٹالیں تا کہ کار، موٹر، سامان وغیرہ کی آمد ورفت میں ٹھوس دھکا وغیرہ نہ لگے، دوسری وجہ یہ بتاتے ہیں کہ راستہ سے تین فٹ زمین گورنر کی ہے، اسے چھوڑ دینا چاہئے لیکن اس زمین کا عوض جو گورنر سے لیا جاتا ہے وہ واقف زمین نے نہیں لیا ہے، کوئی ثبوت نہیں ہے۔

جواب

جو جگہ مسجد بن چکی ہے وہ ہمیشہ کے لئے مسجد ہے اس کو چھوڑنے اور مسجد سے علیحدہ کرنے کا حق نہیں، البتہ جو حصہ مستقف ہو وہ کچھ صحن میں آجائے یا اس کا عکس ہو جائے، تو مضائقہ نہیں مگر رہے مسجد ہی میں، اس سے خارج نہ ہونہ کسی اور کام میں اسکولایا جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو