الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ضرورت مسجد کیلئے غسل خانوں کو باہر منتقل کرنا

سوال

مسجد کے احاطہ میں تین عدد غسل خانہ اور تین استنجا گاہیں اور ایک سبیل آٹھ نلکوں مشتمل برابر برابر بنی ہوئی ہیں لیکن بناء مسجد سے ہی شرعی مسجد کے حکم سے یہ اشیاء خارج تھیں، کیونکہ قوم کے افراد نے تمام مسجد کو پختہ کیا اور نئی بنایا،لیکن مذکورہ بالا اشیاء آج تک پرانے طرز پر موجود ہیں، لہذا مسجد کی کمیٹی نے ایک رائے پیش کی، کیونکہ احاطہ مسجد میں بچے داخل ہو کر پاک و ناپاک ہاتھوں سے غسل خانوں کی جگہ سے پانی لیتے ہیں، دوسرے اس کنویں کے ڈول کو سبیل میں پانی بھر نے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے، اور یہ بعض اوقات جماعت…

جواب

مسجد کی پاکیزگی اور نماز با جماعت میں سہولت پیدا ہونے کے لئے غسل خانوں کو باہر منتقل کر دینا درست ہے، جس طرح قدیم غسلخانوں پر مسجد کا روپیہ خرچ ہوا ہے، اگر اسی طرح ان غسل خانوں پر مسجد کا روپیہ خرچ ہو تو کیا اشکال ہے تاہم اگر اشکال ہے تو کوئی بڑی بات نہیں، اس کے لئے مستقلاً چندہ کر لیا جائے، جب تک کوئی اشکال سامنے نہ آئے تو اس کی تفصیل کیا لکھی جائے؟

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو