مسجد کے قرآن کا حکم
سوال
ایک شخص حافظ ہے جس قرآن پاک میں اس نے حفظ کیا ہے اب وہ قرآن پاک قطعاً شہید ہو چکا ہے، بالکل ہی نا قابل انتفاع ہے، اور اس چھاپہ کا قرآن پاک اس وقت دستیاب بھی نہیں ہے، دہلی، دیو بند، علیگڑھ تمام جگہ تلاش کیا لیکن ناکامی رہی اور دیگر قسم کے مطبوعہ میں یاد نہیں ہوتا کیونکہ ذہن میں وہ مطبوعہ رہتا ہے جس میں کہ قرآن پاک حفظ کیا ہے، اب اتفاق سے ایک مسجد میں اس جیسا مطبوعہ مل گیا ہے، وہ بھی شہید مگر قدرے غنیمت ہے اور ایک قرآن ایسا مل گیا ہے، کہ جتنے پارے اس حافظ کے قرآن پاک میں شہید ہو گئے ہیں اتنے پارے قابل انتفاع ہیں تو…
جواب
اگر یہ تحقیق ہے کہ جو قرآن کریم مسجد میں رکھا گیا ہے، وہ وقف ہے تب تو نہ اس کو لینا درست ہے، نہ اسکے پارہ نکالکر اپنا قرآن شریف مکمل کرنا درست ہے، البتہ وہیں مسجد میں بیٹھ کر پڑہنا درست ہے”اذاتم ولزم لا یملک ولا يملك الخ در مختار“ بعض مسجدوں میں قاعدوں اور پاروں اور قرآن کریم کے بوسیدہ اوراق جو کہ قابل انتفاع نہیں رہتے، اسلئے لا کر رکھ دیتے ہیں، کہ بے حرمتی سے محفوظ ہو جائیں،…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔