مسجد کا قرآن گھر لے آنا اور قیمت ادا کرنا
سوال
ہمارے محلہ کی مسجد میں بہت قرآن کریم قارئین کے لئے رکھے ہوئے ہیں، ان میں سے ایک قرآن شریف جو کہ (قاہرہ ۱۳۵۱ھ) عربی ٹائپ میں چھپا ہوا ہے، مجھے تلاوت قرآن کا شوق ہے، اس کو تلاوت کے لئے بغیر کسی مقتدی یا متولی مسجد سے پوچھے اپنے گھر اٹھا لایا صرف اس غرض سے کہ یہ غیر ملکی ہے اور عربی ٹائپ میں ہے، میرا ارادہ تھا کہ اس کی جگہ میں اپنا قرآن شریف اس مسجد میں رکھ آؤں، جواب طلب بات یہ ہے کہ آپ قرآن وحدیث کی روشنی میں بتائیں کہ کیا یہ چوری کے جرم میں ہے؟ اور میرے اوپر کوئی گناہ تو نہیں ہوگا؟
جواب
وہ قرآن پاک جس نے مسجد میں رکھا ہے ظاہر ہے کہ مسجد کے لئے وقف کیا ہے، کہ جس شخص کا دل چاہے مسجد میں آکر تلاوت کرے اس کو مکان لے جا کر مستقلاً رکھنے کی اجازت نہیں ہے اگر چہ اس کے بدلے میں آپ دوسرا قرآن شریف مسجد میں رکھدیں، شئی موقوفہ پر عوض دیگر مالکانہ قبضہ کا حق نہیں، اگر آپ کو حاصل کرنا ہی ہے تو اس پر جو پتہ لکھا ہے وہاں سے منگوالیں، یہ بھی ممکن ہے کہ جو لوگ قرآن کریم اور…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔