الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ایک مسجد شہید کرنے کے بعد دوسری جگہ منبر وغیرہ منتقل کر دیا گیا اس میں جماعت ہونے لگی اس میں اعتکاف کا حکم

سوال

جنوبی افریقہ کے ایک شہر میں ساٹھ سال سے ایک مسجد تھی جس میں علاوہ پنجگانہ نماز جمعہ وتراویح کی پابندی کے ساتھ اعتکاف بھی رمضان میں ہوتا تھا، مسجد کی توسیع کی خاطر اسے شہید کر دیا گیا اور دوسرے مکان میں مسجد کا بعض اثاثہ مثلاً فرش منبر وغیرہ کو منتقل کیا گیا اور وہاں اسی پابندی کے ساتھ مقررہ امام وموذن کے ساتھ پنجگانہ نماز وجمعہ ہونے لگا، رمضان میں معتکفین نے اعتکاف کرنا چاہا تو ایک مولوی صاحب نے یہ کہہ کر روک دیا کہ یہ مسجد نہیں ہے اسمیں اعتکاف نہیں ہوگا، اعتکاف کیلئے مسجد ہونا شرط ہے، وہ لوگ اعتکاف سے رُک گئے اور…

جواب

مسجد شرعی وہ ہے جو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مسجد ہو عارضی طور پر اگر کسی جگہ اذان وجماعت کی جائے مثلاً اصل مسجد کی تجدید وتعمیر کی خاطر تو وہ جگہ شرعی مسجد نہیں ہوگی، اس پر مسجد کے احکام جاری نہیں ہوں گے کہ اعتکاف شرعی مسجد میں ہوتا ہے، عورت البتہ اپنے مکان پرکسی ایک مخصوص جگہ میں جہاں وہ نماز پڑھتی ہو اعتکاف کر سکتی ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو