مسجد ضرار
سوال
تقریباً سو سال ہوئے ہیں کہ ایک جامع مسجد میں تعلیم وتدریس جاری ہے، اور اس تعلیم وتدریس کیلئے جو عالم کو رکھا جاتا ہے، وہی عالم پنجگانہ نماز وعیدین کی نماز اور جنازہ کی نماز پڑھانے اور جمعہ کی نماز پڑھانے کا ذمہ دار رہتا ہے، اس گاؤں میں دو عالم ہیں وہ دو عالم بھی جب کبھی تعلیم وتدریس دیتے رہے ان دونوں پر بھی مذکورہ بالا امر موقوف تھا، لیکن چند سال سے ان دونوں عالم کو تعلیم وتدریس کیلئے نہیں رکھا گیا، اور دوسرے عالم کو رکھا گیا ہے، اب گاؤں کے دونوں عالم نے جھگڑ نا شروع کیا۔
جواب
جو مسجد نیک نیت سے بنائی گئی اور مدت تک اس میں سب متفق ہو کر نماز صحیح طور پر ادا کرتے رہے، اور اب کسی وجہ سے اختلاف ونزاع کی نوبت آگئی تو اب اس قدیم مسجد کو مسجد ضرار نہیں کہا جائیگا، اور اسمیں نماز پڑھنے کو نا جائز نہیں کہا جائیگا، اختلاف ونزاع ختم کر کے، اسمیں نماز ادا کیا کریں، عالم با عمل کو امام بنانا اولی بات ہے، اگر کسی وجہ سے کسی غیر عالم کو امام بنایا جائے، اور طہارت…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔