الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد کا کوئی حصہ قوالی وغیرہ کے لئے خالی کرنا یا اپنی ملک قرار دینا اور اس کے عوض دوسری جگہ دینا

سوال

(۱) مسجد معمورہ کا بعض حصہ اپنے ذاتی امور میں استعمال کرنا کیسا ہے، بشرط یہ کہ اس بعض حصہ کی شکل میں تغیر کر دیا ہوا اور اس کو مسجد سے علیحدہ کر دیا ہو۔ (۲) کیا کسی صورت میں مسجد معمورہ یا غیر معمورہ اپنے ذاتی امور میں مستعمل ہو سکتی ہے یا نہیں؟ (۳) مسجد کے بعض حصہ کو یا ساری مسجد کو دوسری جگہ وہاں سے ہٹا کر بنا سکتے ہیں، یا نہیں؟ (۴)

جواب

(۲) نہیں (۳) اگر پہلی مسجد غیر آباد ہو جائے اور دوسری جگہ مسجد تعمیر کی جائے، تو پہلی مسجد کا سامان دوسری مسجد میں منتقل کرنا درست ہے ورنہ نہیں ہے (۴) ان کے لئے ایسا کرنا قطعاً نا جائز ہے، ان سے زبر دستی مسجد کا وہ حصہ واپس لیا جائیگا۔ (۵) جو جگہ پہلے سے مسجد تھی، وہ تو بہر صورت مسجد ہے؟

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو