الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نئی مسجد، مسجد ضرار نہیں

سوال

کہ ژاڑ بشلا میں ایک مکان کے ساتھ ۹٫۸ رہاتھ کے فاصلہ پر شمال جانب ایک مسجد پھونس کی محلہ کے لوگ بنا کر اس میں تقریباً ۲۹٫۲۸ سال سے نماز جمعه وجماعت ادا کرتے تھے، اور مسجد کی جانب شمال مشرقی میں ایک عام بیٹھک گھر بھی ہے جو اس صورت پر ہے جہاں دن رات اکثر عوام وخواص کا ہجوم رہتا ہے، مصلیان مسجد بوقت نماز وقتی اور جمعہ اکثر ہجوم کے شور وغل سے پریشان رہتے تھے، اور اکثر اوقات مستورات کی آوازیں بھی پہنچ جایا کرتی تھیں، جس کی وجہ سے خطرات وتفکرات پیدا ہوتے تھے۔

جواب

دوسری مسجد جب کہ ضرورت مذکورہ کی وجہ سے بنائی گئی ہے، اور مالک زمین نے بخوشی وہ جگہ مسجد کے لئے دیدی اور اس پر باقاعدہ نماز وجماعت ہونے لگی اور مالک اصلی کا مالکانہ قبضہ اس پر نہیں رہا تو وہ شرعی مسجد بن گئی ہے وہ مسجد ضرار کے حکم میں داخل نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو