الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حویلی کی مسجد اور اس کیلئے خریدے ہوئے سامان کا حکم

سوال

موضع بسیرہ کنور ضلع بجنور میں جب کوئی مسجد نماز ادا کرنے کے لئے نہ تھی، تو ایک صاحب نے اپنی جگہ پر چبوترہ قائم کیا بستی کے تمام لوگ وہاں پر نماز پنجگانہ ادا کرتے رہے، اسی اثناء میں الیکشن کا دور چلا، ایک صاحب جو بستی کا اعتماد علم وعمل میں حاصل کئے ہوئے تھے، پر دھان کی سیٹ حاصل کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے، دوسری طرف گاؤں کا زمیندار کھڑا تھا، لوگوں نے اپنا ووٹ زمیندار کو کامیاب کرنے میں اپنے مستقبل کو روشن جانا، اور ایسا نہ ہوتا تو قومی مفاد میں خطرہ تھا، اس بستی میں مسلم آبادی صفر کے دائرہ میں ہے شخص مذکورہ عالم ہونے…

جواب

اگر وہ جگہ (چبوترہ والی) وقف نہیں اور مالک نے وہاں مسجد بنانے کی اجازت نہیں دی اور وہ حویلی کے اندر ہے کہ سب کو وہاں نماز کے لئے جانے کی اجازت نہیں تو وہاں مسجد بنانا درست نہیں ہے جو سامان جن لوگوں کا ہے، وہ خود لے جا سکتے ہیں، اگر چندہ کر کے خریدا ہے تو چندہ دینے والوں کی اجازت سے اس کو دوسری مسجد میں حسب ضرورت ومصلحت لگا سکتے ہیں، اگر اصل حقیقت اس کے خلاف ہو تو ظاہر ہے کہ اس…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو