نئی مسجد بنانے کے بعد پرانی مسجد اور اس کے وقف کا حکم
سوال
(۱) ہمارے موضع میں ایک مسجد تھی جس میں با قاعدہ نماز وغیرہ ہوتی رہی بیس سال تک اس کے بعد اسی موضع میں دوسری جگہ وہ مسجد منتقل کر دی گئی اور وہ جگہ چھوڑ دی گئی، بیکار، ایک مکان کا فاصلہ تھا، اور قریب خراب ہونے کے بھی تھی، فی الحال منقولہ مسجد ایک مکان جس میں باغ لگا ہوا ہے موجود ہے اور منقول عنہ کی جگہ ویران پڑی ہے، اب اس میں نماز وغیرہ ہوتی ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟ (۲) پہلی مسجد کو منتقل کرنے کے بعد عدم حفاظت کی وجہ سے اور نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے گناہ ہو گا یا نہیں؟
جواب
۲/۱ / ایک مسجد کو منتقل کر کے دوسری جگہ لے جانا جائز نہیں، اگر پہلی مسجد غیر آباد ہو جائے اور اس کے سامان کی حفاظت دشوار ہو جائے تو ضائع ہونے کے خوف سے اس کے سامان کو منتقل کر کے قریب ترین دوسری مسجد میں صرف کر دینا درست ہے، اور پہلی مسجد کی جگہ کو بھی پورے طور پر محفوظ کر دیا جائے، تاکہ اس میں کوئی کام خلاف احترام مسجد نہ ہو سکے، بلا حفاظت اس کو چھوڑ نا درست نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔