الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

غیر آباد مسجد کا سامان مدرسہ یا مسافر خانہ میں لگانا

سوال

ایک نئی مسجد تیار ہوئی ہے اس کے قریب میں ایک پرانی مسجد شکستہ وبرباد حالت میں ہے تو اس شکستہ مسجد کو توڑ کر اس کے ملبہ سے نئی مسجد کے قریب مدرسہ مسافر خانہ یا امام ومؤذن کے رہنے کے لئے حجرہ بنانا جائز ہے یا نہیں، اسی طرح مسجد کا ایک مکان جو مسجد کے لئے وقف ہے اور اس کی آمدنی مسجد میں خرچ ہوتی ہے، تو اس مکان میں اس ملبہ یا اس کی قیمت کو لگا سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

جو مسجد غیر آباد ہو چکی ہے وہاں نماز پڑھنے کی کوئی صورت نہیں رہی، اس جگہ کو محفوظ کر دیا جائے مفتی بہ قول کے مطابق وہ ہمیشہ مسجد ہی رہے گی، اس کا سامان دوسری مسجد میں منتقل کر دیا جائے، اگر وہ وہاں کارآمد نہ ہو تو ارباب حل وعقد کی رائے سے اس کو فروخت کر کے قیمت دوسری مسجد میں صرف کر دی جائے، لیکن مسجد کا سامان بلا قیمت مدرسہ یا مسافر خانہ وغیرہ میں صرف کرنا درست نہیں، اگر چہ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو