الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

میکہ میں رہ کر جھوٹی تحریر کے ذریعہ نفقہ طلب کرنا

سوال

انصار میاں اور اس کی زوجہ زاہدہ کے درمیان زاہدہ کے نان ونفقہ اور دیگر وعدوں کے اداء نہ ہونے کے بابت تنازع ہوا جس پر انصار میاں نے اپنے سسر اور زوجہ کو منتخب کیا کہ فریقین اپنے تنازعات کو پنچایت مسلمین یا قریشی عدالت شرع شریف بھو پال کے ذریعہ اپنا دعویٰ دائر کر کے انصاف وتصفیہ اور مذہبی طریقہ کار اختیار کریں جس پر مولوی اور ان کی دختر نے بجائے پنچایت مسلمین یا عدالت شرع شریف کے سرونج کی غیر مسلم عدالت میں ایک فرضی تحریر کے حوالہ سے یہ دعوی دائر کیا ہے کہ انصار میاں نے زاہدہ کے بارے میں یہ تحریر کیا ہے کہ میں اپنی…

جواب

(۳/۲/۱) اگر انصار میاں نے برضا ورغبت زاہدہ کو میکہ میں رہنے کی اجازت دی ہو اور پچاس روپیہ ماہانہ دینے کا وعدہ کیا ہو تب بھی مذہب کے خلاف آزادانہ رہنے کی اجازت تو کسی طرح نہیں دی نہ دینے کا حق ہے اگر ایسی اجازت دے بھی دے تو شرعاً معتبر نہیں اور ایسی اجازت دینے والا گنہ گار ہے تاہم انصار میاں کو حق حاصل ہے کہ اپنی اجازت واپس لے کر اپنی بیوی زاہدہ بی کو میکہ سے بلا کر اپنے مکان…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو