الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

فاسقہ بیوی پر نکیر اور اس کا نفقہ

سوال

زید کو ایک عرصہ سے ایک مسجد میں امامت وخطابت کی خدمات سپرد ہیں، اس میں بہت سی ایسی خامیاں ہیں کہ ایک امام کے لئے اس طرح کی خامیاں زیبا نہیں دیتیں، مقتدیوں میں اختلاف ہے، متولی سے کہا گیا تو کہا پرانا امام ہے، پڑا رہنے دو، یہ جواب بعض کو پسند ہے، بعض کو ناپسند ہے، اس امام نے کہا کہ بیوی اگر زانیہ اور شرابی بھی ہو تو یہ اس کا فعل ہے، بیوی ہونے کی جہت سے مرد کا ایسی بیوی کے ساتھ رہنا، اس کو نان ونفقہ دینا نہ صرف یہ کہ ضروری بلکہ باعث اجر وثواب ہے۔ جب ان کو اس پر ٹوکا گیا تو فرمایا کہ کیا تم مجھ سے زیادہ فقہ جانتے ہو؟

جواب

بیوی اگر گناہ کبیرہ کی مرتکب اور فاجرہ ہو تو تب بھی شوہر کے ذمہ اس کو طلاق دینا واجب نہیں، محض مستحب ہے، جب کہ طلاق دینا واجب نہیں، رکھنا درست ہے، تو اس کا نفقہ واجبہ ادا کرنا بھی لازم ہوگا، اور واجب کی ادائیگی پر اجر ثواب کا ملنا بالکل ظاہر ہے، لہذا امام صاحب کی یہ بات ایسی نہیں کہ جس کی وجہ سے ان کو علیحدہ کیا جائے، البتہ کہنے کا فرق ہے، اگر اس طرح کہا جائے کہ زانیہ اور…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو