بغیر وجوب کے نفقہ کو مہر میں شمار کرنا
سوال
زید نے اپنی بیوی کو بہ نیت نفقه مثلاً ۵۰ روپیہ دیا پھر معلوم ہوا کہ اس پر واجب نہیں تھا تو کیا زید مہر میں محسوب کر سکتا ہے یا دوبارہ قبضہ ضروری ہے، یا اس کو لینے کا حق نہیں۔
جواب
یہ جزئیہ بالتصریح نظر سے نہیں گذرا لیکن ایک دوسرا جزئیہ نقل کرتا ہوں جو کہ اس کی نظیر بن سکتا ہے، اس کے ذریعہ سے صورت مسئولہ کا حکم بھی معلوم ہو جائے گا، وہ یہ کہ اگر کسی نے پیشگی نفقہ دیدیا اور عورت بعد میں مستحق نفقہ نہیں رہی تو اس کی واپسی کا حق نہیں: ولا ترد النفقة والكسوة المعجلة بموت او طلاق عجلها الزوج او ابوه ولو قائمة به يفتى ا هـ در مختار ووجهه انها صلة لزوجته ولا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔