بغیر شوہر کے گھر جائے نفقہ کے مطالبہ کا حق نہیں
سوال
میری شادی ۷۲/۲/۳ء کو تنویر احمد کے ساتھ ہوئی تھی، آج دو سال سے زیادہ کا عرصہ ہوا آج تک انہوں نے میری کوئی خبر نہ لی، بلکہ کئی بار یہ چاہا کہ مجھے بذریعہ عدالت زبر دستی اپنے گھر لے جائیں، مگر خدا نے میری لاج رکھی اور میں نہ جاسکی، شادی کے بعد سے آج تک میرا کوئی خرچہ انہوں نے برداشت نہیں کیا، اور وہ کسی حد تک ناکارہ بھی ہیں، میں شریعت سے اپنا فیصلہ چاہتی ہوں، کیونکہ میں ایک شریف عورت ہوں، پردہ نشین ہوں کیا کروں کہاں جاؤں۔
جواب
آپ اپنے شوہر کے مکان پر موجود نہ رہیں، وہ بلانا چاہے پھر بھی نہ جائیں تو آپ کو اس سے خرچ طلب کرنے کا حق نہیں ہے موجودہ حالت میں آپ کی طرف سے بڑا ظلم ہے، آپ کو لازم ہے کہ آپ اپنی غلطی کی معافی مانگیں اور شوہر کے گھر پر جا کر آباد ہوں۔ فقط والله تعالی اعلم۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔