کیا باپ کے گھر رہ کر بھی نفقہ شوہر کے ذمہ واجب ہے؟
سوال
(۱) کیا زہرہ کے دورانِ قیام والدین بکر کی جانب سے حسب اقرار نان ونفقہ اخراجات بکر کی جانب سے واجب الادا ہے؟ (۲) کیا حسب اقرار بکر کی نصف آمدنی زہرہ کو پچھلے دو سال جو عرصہ وہ بکر کے ساتھ نہ رہی مل جانا جائز ہے، اور بکر پر واجب ہے؟ (۳) اگر مذکورہ واجبات ضروری اور واجب الاداء ہیں اور ان کی ادائیگی سے بکر کترائے تو از روئے شرع شریف اس پر کیا گناہ لازم ہو گا؟
جواب
(۱) حسب معاہدہ وہ نان ونفقہ کی مستحق ہے۔ (۲) حسب قرار داد نصف آمدنی کی وہ مستحق ہے، جب کی عرفاً اتنی مقدار اس کے نان ونفقہ کے لئے کافی متصور ہوتی ہو۔ (۳) حق واجب کو ادا نہ کرنا گناہ ہے مگر ساتھ ساتھ یہ بھی ملحوظ رہے کہ زہرہ کا ناراض ہو کر میکہ چلا جانا اور اپنے والد ہی کے مکان پر رہ کر نفقہ طلب کرنا، شوہر کے بلانے پر بھی اس کے پاس نہ جانا سخت گناہ اور موجب لعنت ہے، حدیث پاک…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔