ناشزہ کا نفقہ اور حق حضانت
سوال
اگر کوئی زوجہ اپنے خاوند کے ساتھ افعال ذیل کی مرتکب ہو کر اس کو رنج وغم وصدمہ پہنچایا ہے۔ (۱) خاوند اس کو شب میں طلب کرے کہ میں صبح کو سفر پر جاتا ہوں آ کر کچھ سن کر جاؤ اور اس کی ماں نے جواب دیا کہ سو گئی پھر صبح کو بھیجا نہیں آئی، خاوند غصہ سے چلا گیا مگر کوئی پرواہ نہیں کی اور ایک عرصہ گزر گیا مگر اس کی خیریت تک نہیں لی کہ زید زندہ ہے، یا مر گیا۔ (۲)
جواب
بیوی کے یہ افعال نہایت مذموم اور شرعاً قابل ملامت ہیں، جب شوہر بلائے اور اپنی حاجت جماع پوری کرنا چاہے تو بیوی کو اس کی اطاعت لازم ہے، اگر کوئی عذر حیض وغیرہ کا ہو تو ظاہر کر دے: عَنْ طَلْقِ ابْنِ عَلِيّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا الرَّجُلُ دَعَا زَوْجَتَهُ لِحَاجَتِهِ فَلْتَأْتِهِ وَإِنْ كَانَتْ عَلَى التَّنُّورِ رواه الترمذى. (۲)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔