الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کیا میکہ میں رہتے ہوئے بھی نفقہ لازم ہے

سوال

زید نے اپنی زوجہ ہندہ کو دو ماہ کے وعدہ سے میکہ بھیج دیا، میعاد گذرنے پر ہندہ کو نہیں بلایا ہندہ کے عزیز واقارب نے اور اس کے رشتہ داروں نے ایک دو مرتبہ ہندہ کو بلانے کا ذکر کیا لیکن زید بلانے پر رضامند نہیں ہوا، زید کچھ دن بعد باہر چلا گیا ہندہ کو میکے میں رہتے ہوئے ایک سال کامل گزر گیا زید جس وقت باہر سے آیا اس وقت اس سے کہا گیا کہ اپنی زوجہ کو بلاؤ زید نے صاف لفظوں میں کہا کہ میں ہندہ کو ہرگز نہیں بلاؤں گا، میری مرحوم بہن کی وصیت ہے، ہندہ کے اقارب نے زید سے کہا کہ اگر تم ہندہ کو نہیں بلاتے ہو تو ہندہ کو نان…

جواب

جب کہ زید نے اپنی زوجہ کو خود میکے بھیجا ہے تو جب کہ زید کی اجازت سے میکہ رہے وہ نان ونفقہ کی مستحق ہے، البتہ اگر بغیر اجازت کے گئی ہے یا اجازت سے جانے کے بعد باوجود زید کے بلانے کے نہیں آئی بلکہ بلا اجازت میکہ رہی تو وہ شرعی نان ونفقہ کی مستحق نہیں، جب شوہر کے مکان پر آجائے گی تب مستحق ہوگی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو