طلاق کے بعد اگر بیوی اپنے میکہ رہے تو اس کا نفقہ عرف کی وجہ سے ساقط ہو جائے گا یا نہیں
سوال
اس قصبہ کا طریقہ یہ رہا ہے کہ سوائے فاحشہ کے ہر قسم کی مطلقہ کو مہر وخرچہ عدت دلوایا جاتا ہے اور میکہ میں بیٹھے رہنے کا خرچہ نہیں دلوایا جاتا ہے تو کیا مذکورہ صورتوں میں محض رواج کی وجہ سے مہر وخرچہ عدت کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے کیونکہ میاں بیوی کے بیانات میں اختلافات اور باہمی جھگڑے کی وجہ سے نئے فتنہ کا اندیشہ ہوتا ہے۔
جواب
خلوت صحیحہ کے بعد پورا مہر لازم اور مؤکد ہو جاتا ہے خرچہ عدت شوہر کے ذمہ لازم ہوتا ہے ناشزہ کا نفقہ لازم نہیں ہوتا ہے یہ سب احکام شرعی ہیں محض رواجی نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔