بیوی کو بہن وغیرہ کہنا
سوال
ایک شخص نے اچانک اپنی عورت کو تو (بو بو) بواؤ مجہولہ اور بوقت تکلم بلا قصد ونیت ظہار کے کہا تھا اور غلط العوام کی طرح زبان سے نکل گیا تھا، اس کے بعد پھر کسی اور موقع پر پھر دوسری دفعہ اپنی لڑکی کو گود میں لئے بیٹھا تھا کہ اس کی بیوی نے کسی چیز کو خاوند سے مانگا یا یونہی اس کی بیوی نے خاوند سے مخاطب ہو کر کوئی بات کہی جس کے جواب میں بلا قصد ونیت کسی قسم کے (ہاں پوتر)
جواب
صورت مسئولہ میں ظہار نہیں ہوا بلکہ یہ خطاب لغو ہے، بالقصد ایسا خطاب کرنا مکروہ ہے:ویکره قوله انت امی ویا ابنتي ويا اختى ونحوه ا ه درمختار وقوله يكره الخ جزم بالكراهة تبعاً للبحر والهندية والذى فى الفتح وفي انت امي لا يكون مظاهراً وينبغي ان يكون مكروها فقد صرحوا بان قوله لزوجته يا اخته مكروها وفيه حديث رواه ابو داؤد اَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔