طلاق کنایہ اور ظہار
سوال
زید نے ذیل کے تین خطوط مختلف مواقع میں لکھے، جب کہ زوجہ زید (خالدہ) حاملہ تھی، پہلا خط وضع حمل سے پہلے آیا اور بعد وضع حمل ایک خط حقیقی ماموں کو اور ایک خط خالدہ کو موصول ہوا، اب حقیقی ماموں کو دوسرا خط ملنے پر صورت حال معلوم کرنے کے لئے زید کے پاس گئے تحقیق کرنے پر اپنے حقیقی چچا کے سامنے زبانی طور پر ماموں سے بولا کہ جو ہونا تھا، ہو گیا، تو تو زید کے چچا نے کہا کہ اگر کچھ گنجائش ہو تو نکال لیں، تو اس بات پر زید نے کہا کہ کیا میں زنا کروں۔
جواب
اگر شوہر نے ایسا لکھا ہے اور طلاق کی نیت سے لکھا ہے تو جیسا کہ قرائن سے ظاہر ہوتا ہے تو طلاق بائن واقع ہوگئی ہے ظہار نہیں ہوا ہے طرفین رضامند ہیں تو دوبارہ نکاح کا اختیار حاصل ہے حلالہ کی ضرورت نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔