بیوی کو بہن یا بیٹی کہنے سے ظہار
سوال
ایک صاحب پوچھتے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی کو ایک موقع پر خوشی کے مارے آپا (بمعنی بہن) اور دوسری موقع پر فرط محبت میں بیٹا (بمعنی بیٹی) یا لڑکی یا فقط بیٹی کہہ دیا تو کیا اس سے ظہار ہو جائے گا، اور کفارہ دینا ہوگا، اور آسان کفارہ غریب کے لئے کیا ہے، مسئلہ ظہار کے بارے میں اور کفارہ کے وجوب کے بارے میں ضابطہ کلیہ مطلوب ہے، جو ہر جزئیات پر مطلع ہوسکیں، نیز طلاق کنایہ کے بارے میں اردو میں کون سے الفاظ ایسے ہیں جن کی بنا پر طلاق بائن ہو جاتی ہے، مثلاً اب میرے گھر نہ آنا اپنے ہی گھر رہنا ہم سے تم سے کوئی مطلب نہیں تم اپنے…
جواب
(۱) اس سے ظہار نہیں ہوتا لیکن ایسا کہنا مکروہ ہے: یکره قوله انت امی ویا ابنتی ویا اختى ونحوه اه درمختار جزم بالكراهية تبعاً للبحر والنهر والذي في الفتح وفي انت امي لا يكون مظاهراً وينبغى ان يكون مكروهاً ا ه شامی ص: ۵۵۷، ج: ۲، ظہار کے لئے تشبیہ لازم ہے: الظهار تشبيه المسلم زوجته او جزء شائع منها بمحرم عليه تابیداً در مختار جب ظہار نہ ہوا تو کفارہ لازم نہیں۔ (۲)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔