بیوی کو بہن کی طرح کہنے کا حکم
سوال
سلطان صاحب نے اپنی منکوحہ صغریٰ کو بذریعہ تحریر آگاہ کیا اور لکھ کر بھیجا کہ ۶ نومبر ۱۹۶۷ء کی شام کو آفتاب کے غروب سے پہلے اگر تم آگئی تو میری منکوحہ ہے اور اس کے گزرنے کے بعد آئی تو میری ہمشیرہ (بہن) کی طرح ہے، اور یہ وقت گزار دیا تو میری طلاق ہے، چنانچہ منکوحہ شوہر کے یہاں وقت مقررہ پر نہیں گئی، اور والدہ کے مکان پر قیام پذیر ہوئی، صغری والدین کے یہاں جس وقت آئی تھی، چھ ماہ کا حمل تھا اور اب بچہ کو پیدا ہوئے پانچ ماہ ہو چکے ہیں، آیا ان حالات میں طلاق واقع ہو جاتی ہے، جب کہ طلاق ایک ہی دی ہے، تو رجوع کا حق ہے، یا…
جواب
(بہن کی طرح) کہنے سے اگر ظہار کی نیت کی ہے، تو ظہار ہو گیا اگر طلاق کی نیت کی ہے، تو طلاق بائنہ ہو گئی، اس لئے کہ یہ لفظ کنایات ظہار میں سے ہے اس میں نیت کا اعتبار ہوگا، اگر کوئی نیت نہیں کی تو یہ کلام لغو ہے، البتہ دوسرا لفظ صریح طلاق کا ہے، جب کہ عورت وقت مقررہ پر نہیں آئی تو اسے ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی ہے لیکن اگر پہلے لفظ (بہن کی طرح)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔