ظہار
سوال
ایک شخص کو اپنی بیوی پر چند علامات سے زناء کا شبہ ہوا شوہر بیوی سے ناراض ہو گیا، بیوی نے وجہ دریافت کی، شوہر نے کچھ نہیں کہا، غصہ میں صرف یہ الفاظ کہے جا مجھ کو تیری ضرورت نہیں، تو میرے لئے میری ماں بہن جیسی ہے، اور میں تجھ کو طلاق دے چکا شوہر نے جو یہ الفاظ ادا کئے (تو میرے لئے میری ماں بہن جیسی ہے) مطلب یہ تھا کہ جیسے ماں بہن، حرام ہوتی ہے تو بس آئندہ کے لئے میرے واسطے حرام ہے، بعد میں شبہ زنا دور ہو گیا اب شوہر بیوی کو اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے اس کے متعلق شرعی حکم کیا ہے۔ بینوا وتوجروا۔
جواب
شوہر نے دو لفظ کہے ہیں پہلا لفظ موجب ظہار ہے دوسرا موجب طلاق کے لہذا اگر اس کو زوجہ بنا کر رکھنا چاہتا ہے تو اولا کفارہ ظہار ادا کرے یعنی دو مہینے لگا تار روزے رکھے اس کی وسعت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلائے پھر اگر عدت ختم نہ ہوئی ہو رجعت کر لے اور نہ دوبارہ نکاح کرے: لِقَوْلِهِ تَعَالَى وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِّسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔