الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

طلاق کے بعد پھر نکاح اور ولادت

سوال

جس عورت سے میں نے نکاح کیا وہ اپنے کردار ووفاداری میں ناکام رہی، میں نے اس کو دوبارہ سے طلاق شرعی لکھ کر دیا اور نہ کہ تین عدتوں میں جس طرح شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے، جب پہلی دفعہ طلاق ہوئی تو اس وقت پہلے ایک طلاق بائن لکھی گئی، پھر ایک طلاق کاٹا گیا اور طلاق لکھا گیا، اب جو نکاح ثانی ہوا وہ صرف ایک سال قائم رہا اور اس دوران ایک لڑکا تولد ہوا اور جو دوسری طلاق ہوئی وہ سہ طلاق دے کر لکھی گئی اور لڑکا ماں کے پاس رہائش پذیر ہے، چونکہ اس وقت جوانی کے زور نے مجھے اندھا بنا دیا اور عدالت میں جا کر نکاح…

جواب

اگر آپ نے پہلی دفعہ ایک یا دو طلاق زبانی دی یا تحریری لکھ کر بھیج اس کے بعد پھر اس سے دوبارہ نکاح کر لیا، یعنی کم از کم دو گواہوں کے سامنے نکاح کا ایجاب وقبول کیا تو یہ نکاح صحیح ہوگا، اگرچہ اس میں خطبہ نہ ہوا ہو پھر اس بے جو بچہ پیدا ہوا وہ ثابت النسب ہے وہ آپ کا لڑکا ہے، آپ کے بعد آپ کی وراثت کا حقدار ہے، ماں نے اگر اس کا نام بدل دیا تو اس سے کچھ نہیں ہوتا، البتہ ماں کو اس…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو