الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دو طلاق کے بعد دوبارہ نکاح

سوال

میں بدرستی ہوش وحواس بلا کسی جبر واکراہ کے تحریر کرتا ہوں، کہ مسماۃ ہاجرہ، بیگم دختر نصیر محمد ساکن کڑوار ضلع سلطان پور کو جو میرے نکاح میں ہے بوجوہ ذیل طلاق دیدی اور اپنے نکاح سے علیحدہ کر دیا۔ (۱) جن امور میں مسماۃ موصوفہ پر بحیثیت زوجہ ہونے کے میری اطاعت واجب تھی ان میں بھی وہ میری اطاعت نہ کرتی تھی، اور میری خلاف مرضی عمل کرتی تھی، اور نہایت دل آزار رویہ اختیار کرتی تھی۔ (۲)

جواب

(۱) مطلقہ ہو گئی ہے۔ (۲) اس میں دو لفظ ہیں، پہلا لفظ ہے طلاق دیدی اس سے ایک طلاق رجعی واقع ہوئی ہے دوسرا لفظ ہے اپنے نکاح سے علیحدہ کر دیا، اس سے بائنہ ہوئی، اب رجوع کا حق نہیں رہا، البتہ طرفین کی رضامندی سے دوبارہ نکاح صحیح ہے، عدت میں ہو یا بعد عدت۔ (۳) حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے، وضع حمل کے بعد ہندہ کو نکاح ثانی کا بھی اختیار ہوگا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو