الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تین طلاق کے بعد رجعت

سوال

(۱) تین مرتبہ طلاق دینا بیک وقت بیک مجلس ایک مرتبہ میں امام اعظم ابو حنیفہ کے نزدیک نا جائز ہے، نیز تین طلاق دہندہ سخت گنہگار ہے۔ (۲) امام شافعی یا کسی دیگر امام صاحب کے نزدیک تین مرتبہ بیک وقت طلاق دینا ایک طلاق شمار ہے، طلاق دہندہ رجوع کر سکتا ہے؟ (۳) کیا حضرت امام ابو یوسف یا کسی دیگر عالم احناف کا بھی یہی مسلک ہے؟ (۴) کیا طلاق دہندہ کے یہ الفاظ ادا کرنے سے طلاق دی، طلاق دے چکا، طلاق دے چکا جہاں تیرا دل چاہے جا، مجھ سے پردہ کرلے، کس قسم کی طلاق واقع ہوتی ہے؟ (۵)

جواب

(۱) ایسا کرنا گناہ ہے، مگر پھر بھی تین طلاق ہو کر مغلظہ ہو جائے گی۔ (۲) ائمہ اربعہ میں سے کسی کے نزدیک بھی تین طلاق کے بعد رجعت کا حق نہیں رہتا، خود قرآن کریم میں ہے، کہ تین طلاق کے بعد بغیر حلالہ کے دوبارہ نکاح کی گنجائش نہیں: الطلاق مرتان الى قوله تعالى فلا تَحِلُّ لَهُ من بعد حَتَّى تنكح زوجاً غيره (الآية) بخارى شریف میں امرأة رفاعہ کا قصہ ہے، اس سے بھی یہی ثابت ہے۔ (۳)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو