الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تین طلاق کے بعد رجعت نہیں

سوال

ایک شخص نے ایک مرتبہ طلاق دی، اور رجعت کر لی، دوسری مرتبہ طلاق دی، پھر عدت بلکہ دو سال گزرنے کے بعد از سرِ نو نکاح اسی عورت سے مہر کے عوض کیا، اس شخص کا کہنا ہے کہ دوسری مرتبہ نکاح کرنے کے بعد میں نے یوں تو اب تک کئی مرتبہ تکرار ہوئی طلاق کی دھمکی دی، بلکہ نہ جانے کتنی مرتبہ غصہ میں الفاظ نکلے ہوں، مگر دو ہفتہ قبل صریح الفاظ میں طلاق دینے کے الفاظ استعمال کئے، کیا اب پھر عدت کے اندر رجوع کر سکتا ہے؟ جب کہ عورت حاملہ ہے، اس کا کیا طریقہ ہے؟ اور کیا حکم شرعی ہے؟

جواب

جب ایک دفعہ طلاق دے کر رجعت کر لی جائے، اور پھر دوسری مرتبہ طلاق دے کر رجعت کر لی جائے، تو پھر تیسری دفعہ طلاق کے بعد رجعت کا اختیار نہیں رہتا، ایک دم دو طلاق دیکر بھی رجعت کا حق رہتا ہے غرض تین طلاق کے بعد حق نہیں رہتا، خواہ تینوں طلاق ایک دفعہ دی جائیں خواہ الگ الگ، پھر خواہ رجعت کی گئی ہو یا نہ کی گئی ہو، بہر صورت تین طلاق کے بعد مغلظہ ہو جاتی ہے، بغیر حلالہ کے دوبارہ نکاح…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو