سنت کے موافق تین طلاق دینے کے بعد رجعت درست ہے
سوال
پانچ سال قبل میری شادی ہوئی، دو بچے ہیں ایک سال پہلے رنجش کے باعث میں نے اپنی بیوی کو تنبیہا یہ الفاظ کہے جاؤ تمہیں سنت کے مطابق تین طلاقیں ہیں میرے ذہن میں سنت تین طلاق کا مفہوم یہ ہے کہ ہر طہر میں ایک طلاق واقع ہوگی، اور پہلے دو طہر تک رجوع میں ممانعت نہیں، تاہم میں نے صرف آٹھ دن کے بعد رجوع کر لیا، اور جب سے اب تک تعلقات خوشگوار ہیں، میں نے اپنے قول وفعل کے بارے میں مقامی علماء سے رہنمائی حاصل کی تو انہوں نے میرے موقف کی تائید کی، لیکن گاؤں کے بعض فتنہ پسند عناصر نے محض جاہلانہ طور پر ہر ایک سال گزرنے کے بعد…
جواب
جب آپنے یہ الفاظ کہے جاؤ تمہیں سنت کے مطابق تین طلاقیں ہیں تو تین طہروں میں تین طلاقیں واقع ہوں گی، البتہ پہلی طلاق کے بعد دوسری طلاق کے بعد حق رجعت حاصل رہے گا، تیسری طلاق کے بعد تیسرے طہر میں مغلظہ ہو جائے گی، نکاح بالکل ختم ہو جائے گا، نہ رجعت کا اختیار رہے گا، نہ بغیر حلالہ کے دوبارہ نکاح کی گنجائش رہے گی، لہذا تیسری طلاق کے بعد تیسرے طہر میں تعلق نکاح کو بالکل ختم کر دیا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔