الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شرط طلاق ختم کرنے کی صورت

سوال

زید کا نکاح ہندہ سے ہوئے عرصہ ہو گیا ایک روز غصہ میں زید نے اپنی بیوی سے یہ جملہ کہا کہ اگر تم وہاں جاؤ گی، (یعنی اپنے میکے) تو تم پر طلاق عائد ہوگی، ایک دو منٹ کے بعد ان کو یاد دلایا کہ اگر تم وہاں جاؤ گی، تو تم پر ویسا ہی ہوگا، جیسا کہ کہا گیا ہے، باقی اس وقت طلاق کا لفظ نہیں کہا، پھر کچھ عرصہ کے بعد (چودہویں دن) یہ کہا کہ اگر تم جاؤ گی (میکے) تو تم پر طلاق، باقی ہندہ ابھی تک زید کے گھر میں ہے، (۲)

جواب

پہلے لفظ (طلاق عائد ہوگی) سے طلاق واقع نہیں ہوئی خواہ کتنی ہی مرتبہ کہا ہو کیونکہ یہ طلاق منجز نہیں بلکہ شرط پر معلق ہے، اور شرط پائی نہیں گئی لہذا طلاق نہیں ہوئی البتہ شرط ابھی باقی ہے، دوسرا لفظ کہ (جاؤ میں نے تم کو چھوڑ دیا) اس سے ایک طلاق صریح واقع ہوئی جس میں رجعت کا حق حاصل ہے، اگر عدت (تین حیض)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو