الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کیا شرط معلق کو واپس لیا جا سکتا ہے؟

سوال

احقر نے اپنی زوجہ کو بوجہ نزاع یہ کہہ دیا تھا کہ اگر تو اپنے ماموں ابراہیم کے گھر گئی اور ماموں کے سامنے آگئی تو تجھے طلاق ہو جائیگی، اس کے بعد تقریبا ایک ماہ بعد صبح کو ہنسی خوشی کہنے لگی کہ آج میں عابدہ کے گھر جو کہ رشتہ کی بہن لگتی ہے، جاؤنگی میں نے جواب دیا کہ تم ضرور جانا مگر میری والدہ کو ساتھ لے کر جانا تنہا مت جانا اس بات پر بگڑ گئی اور یہ کہنے لگی کہ آج میں معاملہ ہی ختم کر دونگی، میں ماموں ابراہیم کے گھر جا کر معاملہ ختم کر دونگی، یہ سنکر فوراً احقر نے اپنے بڑے بھائی امیر حسن اور دوسرے بھائی محمد موسیٰ…

جواب

اگر آپ کی بیوی اپنے ماموں ابراہیم کے گھر گئی اور ماموں کے سامنے آگئی تو آپ کی شرط کے مطابق بیوی پر طلاق واقع ہو گئی ہے شرط پر طلاق کو معلق کر دینے کے بعد شرط کے واپس لینے کا حق نہیں رہتا ہے اگر واقعہ نزاعی ہے، اور فریق ثانی کا بیان اس کے خلاف ہے، تو ممکن ہے حکم بھی دوسرا ہو جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو