الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کلما کی قسم کی وجہ سے موجودہ بیوی حرام نہیں ہوئی

سوال

کسی چیز کی بیع وشراء کے باعث زید وبکر کے مابین تنازع ہوا زید کا کہنا ہے کہ ہم نے مبیع کی قیمت ادا کر دی اور بکر کہہ رہا ہے کہ تم نے قیمت ادا نہیں کی ہے، اب زید مشتری اور بکر بائع دونوں اپنے معاملہ کو کسی عالم دین کے روبرو لے گئے، اور موصوف عالم دین کو دونوں فریقوں نے حکم بنایا جب حکم مدعی کے بیانات سے فارغ ہوئے اور بکر کے مدعی علیہ زید سے اس مذکورہ معاملہ کے متعلق پوچھا گیا تو مدعی علیہ زید بھی بکر مدعی پر الٹا دعویٰ کرتا ہے، کہ بکر کی تحریر میرے پاس موجود ہے، آج سے ایک ماہ قبل ہم نے ان کے ہاتھ فلاں چیز فروخت کی…

جواب

(۱ تا ۴) زید کے اس قسم کھانے کی وجہ سے موجودہ بیوی زید پر حرام نہیں ہوئی، البتہ آئندہ کسی عورت سے شادی کرے گا، تو طلاق ہو جائے گی۔ کیونکہ یہ آئندہ کے لئے ہے، طلاق کی قسم سے پرہیز لازم ہے،” واليمين بالله تعالیٰ لا بطلاق وعتاق وان الح الخصم وعليه الفتوى تتارخانيه لان التحليف بها حرام خانیه اھ (درمختار، ص۴۲۷، ج ۴)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو