الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ردت کے بعد کلما کی قسم کا حال

سوال

کسی شخص نے کلما کی لفظ سے قسم کھائی اور یہ گمان وخیال کیا کہ دنیا میں اسکا کفارہ کسی چیز وصورت میں نہیں ہو سکتا لہذا وہ شخص مرتد ہو گیا، العیاذ باللہ تعالیٰ عنہ پھر وہ شخص آدھ گھنٹہ کے بعد اسلام لایا دریافت طلب یہ امر ہے کہ اس ارتداد سے اس کے اعمال باطل ہوں گے یا نہیں اور کفارہ ساقط ہو گا یا نہیں؟

جواب

یہ غلط ہے کہ کلما کی قسم کھا لینے کے بعد کوئی صورت جواز کی ممکن نہیں، مرتد ہونے سے تمام اعمال برباد ہو جاتے ہیں حتی کہ اگر حج کر چکا تھا اس کا اعادہ لازم ہوتا ہے،موت کا وقت معلوم نہیں کیا خبر ہے کہ آدھ گھنٹہ گزرنے سے پہلے ہی موت آجائے، اور پھر نہ ختم ہونے والی زندگی درد ناک عذاب کی حالت میں جہنم میں گزرے مرتد ہو جانے سے صاحبین کے نزدیک تعلیق باطل نہیں ہوتی، پس اگر اسلام لانے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو