تعلیق کے بعد اجازت سے بھی تعلیق ختم نہیں ہوتی
سوال
امیر حسن اور اکبر حسن کے سالے عبدالغفور کے درمیان جھگڑا ہوا، عبدالغفور نے اپنے بھانجے کو مارا، اور اس قدر مارا کہ مار کھانے والے کے بدن پر نشان پڑ گئے،لڑکے نے آکر اپنے والدین سے ماموں کی شکایت کی تو اکبر حسن اور عبدالغفور کی آپس میں لڑائی ہوئی اور ایسی لڑائی ہوئی کہ مار پیٹ کی نوبت آگئی، مار پیٹ کے دوران اکبر حسن کی بیوی حفیظہ بانو نے اس وقت اپنے بھائی کے حق میں اپنے شوہر اکبر حسن سے زبان درازی کی کہ اس وقت اکبر حسن نے اپنی بیوی حفیظہ بانو سے کہا کہ اگر تم اپنے بھائی عبدالغفور سے بولو گی تو میری جانب سے تین طلاق…
جواب
اگر اجازت دیدے اور پھر وہ اپنے بھائی سے بات چیت کرے تب بھی طلاق مغلظہ واقع ہو جائے گی، طلاق مغلظہ سے بچنے کی ایک صورت ہے وہ یہ کہ اکبر حسن اپنی بیوی کو ایک طلاق دے کر الگ رہے، جب عدت گذر جائے حفیظہ اپنے بھائی سے بات چیت کر لے اسکے بعد اکبر حسن اور حفیظہ بانو کا دوبارہ نکاح کر دیا جائے، اس سے شرط ختم ہو جائے گی، پھر اگر حفیظہ بانو اپنے بھائی سے بات چیت کرے گی تو کوئی طلاق نہیں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔