الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تعلیق کو ختم کرنے کی صورت

سوال

زید بکر کو کہتا ہے کہ اگر تو نے عمر کو جو غیر حاضر ہے، جس پر کسی بات سے ناراض ہے، حالت غصہ میں کہتا ہے کہ اگر میں نے عمر کو لاٹھیاں نہ ماریں تو مجھ پر تین طلاق سے عورت حرام ہے، اور پھر اسی گفتگو کے دوران میں بکر نے زید کو کہا کہ عمر تمہارے بارے میں فلاں بات کہتا ہے تو زید نے کہا میں عمر کو لاٹھیاں ماروں گا، اور اسے خنزیر بناؤں گا، ورنہ مجھ پر تین طلاق سے عورت حرام ہے۔

جواب

صورت مسئولہ میں زید کے ذمہ ضروری ہے کہ عمر کو لاٹھیوں سے مارے، اگر نہیں ماریگا تو اسکی عورت پر طلاق واقع ہو جائیگی، اور چونکہ وقت کی پوری تحدید نہیں کی اسلئے زندگی میں کسی وقت ایسا کرلے، اگر نہیں کیا تو اخیر وقت میں طلاق کا حکم دیا جائیگا، لاٹھیوں کو بھی متعین نہیں کیا، کہ کتنی تعداد ہوگی لہذا کم از کم دو لاٹھیاں مارنا ضروری ہے، خواہ اس طرح کہ دو لاٹھیاں لے کر ایک دم مار دے یا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو