الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اگر اپنی مرضی سے برتن لے گئی تو طلاق کا حل

سوال

زید چار بھائی ہیں، سبھی بھائیوں کا کھانا پینا مشترک ہے، زید اپنی بیوی بچوں کیساتھ اوپر کی منزل میں رہتا ہے اور زید کا بھائی نیچے کی منزل میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہتا ہے، ایک دن کی بات ہے کہ زید کی بیوی زید کے بھائی کی بیوی سے برتن وغیرہ کے بارے میں جھگڑ گئی، زید نے غصہ کی حالت میں اپنی بیوی سے کہا جو برتن میں تم کو دیدوں وہی برتن نیچے کی منزل سے لے جاسکتی ہو، اگر تم اپنی مرضی سے نیچے کی منزل سے لے گئی، تو تم کو طلاق اس کے بعد فوراً ہی اپنی بیوی اور بچے کو لے کر دوسرے گھر میں منتقل ہو گیا، جو پہلے گھر سے کچھ دور…

جواب

بات بات پر غصہ ہو کر طلاق کے الفاظ زبان پر لانا بہت ہی برا ہے، اس سے ہمیشہ احتیاط رکھیں، اب ایک صورت تو یہ ہے کہ زید اوپر کی منزل میں نہ رہے بلکہ نیچے کی منزل میں رہے، تاکہ نیچے کی منزل سے اوپر کی منزل میں برتن لے جانے کی بیوی کو نوبت ہی نہ آئے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو