نکاحِ فضولی اور کلما کی قسم کا اور بہشتی زیور کے ایک مسئلہ کی وضاحت
سوال
میری نسبت جس لڑکی سے طے پائی ہے میں نے اس لڑکی کا نام لے کر یہ کہا کہ عالیہ کو نکاح کے بعد تین طلاق، میں یہ الفاظ جان بوجھ کر نہیں کہا ہوں ایسے ہی باتوں میں کہہ دیا ہوں کیونکہ میں اسکے مسائل سے واقف نہ تھا، اس پر ایک صاحب نے مجھ سے کہا کہ آپ کے نکاح کرتے ہی تینوں طلاقیں پڑ جائیں گی، اور اسکے بعد میں نے بہشتی زیور دیکھا، کسی شرط پر طلاق دینے کے بیان میں یوں لکھا ہے اگر تین طلاق کو کہا تھا تو تینوں پڑ گئیں۔ اور اب مغلظہ ہوگئی اس کے بعد مولانا تھانوی نے مسئلہ لکھ کر اس طرح شروع کیا۔
جواب
پہلے تو آپ نے مسائل سے ناواقف ہو کر غلطی کی تھی، جس کی وجہ سے آپ فکر میں سست تھے، پھر والدہ کے دلاسہ دیتے وقت تو آپ بہشتی زیور میں مسئلہ دیکھ کر واقف ہو چکے تھے، پھر غصہ میں جو کچھ ان کو جواب دیا وہ پہلی غلطی سے بڑھ کر غلطی ہوئی اب صورت یہ ہے کہ جو شخص آپکے اس حال سے واقف ہو اور یہ بھی جانتا ہو کہ آپ کو کس لڑکی سے شادی کرنا پسند ہے، وہ بغیر آپکے کہے از خود اس لڑکی کا نکاح آپ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔