محبوب سے بے وفائی پر قسم طلاق کا حکم
سوال
صورت مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص کسی سے محبت کرتا ہے، فرط محبت میں آ کر قسم بالطلاق کھا لیتا ہے کہ میں کبھی تجھ سے بے وفائی نہیں کروں گا، اگر کروں تو جب بھی میں نکاح کروں میری بیوی کو طلاق ہے، اب اگر کسی مجبوری کی وجہ سے اس کا محبوب اس سے ناراض ہو جاتا ہے، مگر یہ شخص قسم کھانے والا ہمیشہ اس کی طرف سے خوش رہتا ہے، اور حسب سابق اس کے ساتھ نیکوکاری پر آمادہ رہتا ہے، مگر اس کا محبوب اُس سے ناراض رہتا ہے، تو آیا طلاق واقع ہوگی یا نہیں،
جواب
اگر قسم کھانے والا بیوفائی نہیں کرتا چاہے اس کا محبوب ناراض ہو تو نکاح کرنے سے اس کی بیوی پر طلاق نہیں ہوگی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔